MOJ E SUKHAN

یاد آقا کی آتی رہی رات بھر

یاد آقا کی آتی رہی رات بھر
اور پیہم رلاتی رہی رات بھر

کب بلائیں گے سرکار طیبہ ہمیں
بے قراری جگاتی رہی رات بھر

ہم تصور میں روضے کو دیکھا کیے
حسرتِ دل ستاتی رہی رات بھر

قلب کو مل گئی عشق کی اِک کرن
جو تجلی دکھاتی رہی رات بھر

معرفت کے دیئے جل اُٹھے چار سو
آگہی جھلملاتی رہی رات بھر

سامنے سبز گنبد رہا اور فضا
نعت ہم کو سناتی رہی رات بھر

نور سے ان کے مہتاب روشن رہا
چاندنی مسکراتی رہی رات بھر

کس قدر دلنشیں یاد تھی یہ صبا
تار دل کے ہلاتی رہی رات بھر

کلام: صبا عالم شاہ
انگلینڈ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم