MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عمر بھر ہم نے نبھائی دوستوں سے دوستی

عمر بھر ہم نے نبھائی دوستوں سے دوستی
اب یہ جانا کہ عبث ہی زندگی بیکار کی

کیا گلہ غیروں سے جب اس نے پرایا کردیا
اب ضرورت ہی نہیں باقی کسی تکرار کی

زندگی بھر اس نے رکھا میری چاہت کا بھرم
آ ج پر نیلام لوگوں میں سر۔ بازار کی

خود لگاتا ہے وو نشتر اور خود ہی ہے طبیب
پوچھتے ہو بات کیا میرے مزاج ۔ یار کی

دھن دھرم کی بات کیا سب اس کے آ گے ہیچ ہیں
بات ہوتی ہے فقط اک خوبیء کردار کی

الفت۔ دنیا نے روبی کردیا مغلوب یوں
اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی راہ ہے دشوار کی

روبینہ ممتاز روبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم