MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شور پُرسش کا تھا اب کے نہ پزیراٸی کا تھا

شور پُرسش کا تھا اب کے نہ پزیراٸی کا تھا
شہرِ یاراں میں عجب قحط سا گویاٸی کا تھا

واعظ و رند نہ اغیار نہ دلبر نہ رقیب
ایک وحشت کا سماں کوچہءِ ہرجاٸی کا تھا

ذہن بیمار تھکی کرب سے ذخمی روحیں
جیسے اس شہر میں فقدان مسیحاٸی کا تھا

حادثہ قتل ہوس سازش و دہشت گردی
نام تم کچھ بھی رکھو واقعہ رُسواٸی کا تھا

دوست بھی دوست سے بدظن ہے عدو بھی نالاں
یہ کرشمہ تو کسی دستٍ شناساٸی کا تھا

سانحہ یوں تو کیا غیر سے منسوب مگر
میری گردن پہ جو خنجر تھا مِرے بھاٸی کا تھا

رفعت اسلام صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم