MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خرد سے گر نہیں بنتی جنوں کے پاس گزار

خرد سے گر نہیں بنتی جنوں کے پاس گزار
حیات ایسے نہ اے دوست محوِ یاس گزار

ترے لبوں کی ہنسی سے ہرے بھرے ہیں سبھی
یہ تیرے چاہنے والے ترے سپاس گزار

وفا سرشت ہیں تھوڑا بھرم ہمارا بھی!
ہیں دست بستہ ستادہ ہم التماس گزار

مرے نصیب میں گر ہے یہ لذتِ گریہ
مقامِ صبر سے میری یہ کُل اساس گزار

ہمارے ریشوں سے ریشے ملا رہا ہے تو سن
وفا کی بھٹی سے اپنی یہ سب کپاس گزار

جہانِ روح میں ظلمت نہ پھیل جائے کہیں
سو چند روزہ کو ایسے نہ کج لباس گزار

ہم ایسے خانہ بدوشوں کا کون ہوتا ہے
ہمارے ساتھ بھی کچھ پل اے غم شناس گزار

ثمر خانہ بدوشؔ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم