MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سفر کا خوف تھا دل میں تو پھر چلے ہی کیوں

سفر کا خوف تھا دل میں تو پھر چلے ہی کیوں
پہنچ کے منزل جاناں پہ یہ گلے ہی کیوں

خموشیوں کی بدولت اماں ملی تو مگر
ملال عمر بھر یہ تھا کہ لب سلے ہی کیوں

ہر ایک خواب کی تعبیر جب بچھڑنا تھا
تو پھر بتائیے ہم اپ سے ملے ہی کیوں

اگر خبر تھی کہ وہ راستہ نہیں دے گا
دلوں میں دوریاں لے کر گھلے ملے ہی کیوں

سبجی کے واسطے ہموار تھا سفر لیکن
ہمارے پیروں میں اخر یہ ابلے ہی کیوں

گلوں میں شعلے کسی نے چھپائے رکھے تھے
وگر نہ تتلیوں کے پر یہاں جلے ہی کیوں

ہماری جان کو اپنابتا رہے ہو تم
ہمارے ساتھ عداوت کے سلسلے ہی کیوں

جسے نہ پاس محبت نہ پاس وعدوں کا
۔تم ایسے شخص سے اکسر فنا ملے ہی کیوں

سید ظہیر فنا شموگا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم