MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گلی میں ایک چھوٹی سی گلی ترتیب دے لیتے

گلی میں ایک چھوٹی سی گلی ترتیب دے لیتے
تجھے پاتے تری ہمسائیگی ترتیب دے لیتے

کہیں دو چار لمحے تیرگی کی آرزو کرتے
بس اتنے وقت میں ہم روشنی ترتیب دے لیتے

اچانک حادثے بے زار کر دیتے ہیں دنیا کو
خبر ہوتی تو بچ کر زندگی ترتیب دے لیتے

تمہیں دشواریاں ہر گز نہ یوں بے آبرو کرتیں
اگر معمول میں کچھ مفلسی ترتیب دے لیتے

اذانیں آ رہی ہیں بستیاں ترتیب کرنے کی
وگرنہ ہم بھی کوئی جھونپڑی ترتیب دے لیتے

قدم تھکنے کو آئے خوشبوؤں کی بازیابی میں
ارے گستاخ تم آوارگی ترتیب دے لیتے

گستاخ بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم