MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تو انتقام لے اپنا مگر مجھے مت چھیڑ

غزل

تو انتقام لے اپنا مگر مجھے مت چھیڑ
کسی سے کر مرا سودا مگر مجھے مت چھیڑ

ترے چراغ کی لو مضمحل نہ ہونے پائے
اندھیرا کر کے اجالا مگر مجھے مت چھیڑ

تو چور ہے تو عبث مجھ سے حجتیں کیوں ہیں
جو چیز چاہیے لے جا مگر مجھے مت چھیڑ

ترا جنون ہے زیادہ مرے جنوں سے تو پھر
لباس پھاڑ دے میرا مگر مجھے مت چھیڑ

تو تہمات کو زنجیرِ احتساب میں رکھ
برا سمجھ مجھے اچھا مگر مجھے مت چھیڑ

خیال و خواب تو یوں بھی عجیب ہوتے ہیں
خیال بن کے تو سپنا مگر مجھے مت چھیڑ

نچوڑ لے مرے آبِ رواں کو چپکے سے
بنا کے چھوڑ دے صحرا مگر مجھے مت چھیڑ

مجھے تماشا بنا یا تماشبین بنا
تو آنکھ کہ تماشا مگر مجھے مت چھیڑ

مرے شعور کو زچ کرکے لاشعور سے کھیل
ہزار کر مجھے پسپا مگر مجھے مت چھیڑ

محسن اسرار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم