MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ بھی فریب سے ہیں کچھ درد عاشقی کے

یہ بھی فریب سے ہیں کچھ درد عاشقی کے
ہم مرکے کیا کرینگے، کیا کر لِیا ہے جی کے

محسُوس ہو رہے ہیں بادِ فنا کے جھونکے
کھُلنے لگے ہیں مجھ پر اسرار زندگی کے

شرح و بیانِ غم ہے اِک مطلبِ مُقیّد
خاموش ہُوں کہ معنی صدہا ہیں خامشی کے

بارِ الم اُٹھایا، رنگِ نِشاط دیکھا
آئے نہیں ہیں یونہی انداز بے حسی کے

اصغر گونڈوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم