MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جائے نہ کبھی چھوڑ کے ایسا ہے دسمبر

جائے نہ کبھی چھوڑ کے ایسا ہے دسمبر
کیوں اپنی وفاؤں پہ نہ اِترائے دسمبر

گو آخری ہے ماہ ، یہ ہر سال کا لیکن
ہر سال مگر خود کو ہی دہرائے دسمبر

ٹھٹھرے جو ہواؤں سے ، ترا جسم دعا ہے
گرمی تری سانسوں میں دیئے جائے دسمبر

جس ماہ میں چھا جائے اداسی کا سمندر
عشاق کی نظروں میں وہ کہلائے دسمبر

آئے جو نیا سال تو کہہ دے گی یہ سلمٰی
سردی کے سوا غم نہ کوئی لائے دسمبر

سلمٰی رضا سلمٰی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم