MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اشک زیادہ سینے میں کم آنکھوں میں

اشک زیادہ سینے میں کم آنکھوں میں
دل میں ایک سمندر شبنم آنکھوں میں

تعبیروں کی رت جانے کب آئے گی
مدت سے ہیں خواب کے موسم آنکھوں میں

قطرہ قطرہ ڈھلتی ہیں پر جلتی ہیں
درد کی شمعیں مدھم مدھم آنکھوں میں

راہ کہاں سے پاتے ہیں کیوں آتے ہیں
ہنستے ہنستے آنسو یکدم آنکھوں میں

منہ مانگی ساری ہی خوشیاں ہونٹوں پر
پھر بھی انجانے سے کچھ غم آنکھوں میں

سب منظر جانے پہچانے لگتے ہیں
رہتا ہے اک خواب کا عالم آنکھوں میں

( سعود عثمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم