MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ان کہی باتوں کی گہری تشنگی میں اضطراب

ان کہی باتوں کی گہری تشنگی میں اضطراب
بے صدا نغموں کی طرز نغمگی میں اضطراب

ساحلوں سے وصل پر بھی ہے سکوں نا آشنا
سر پٹختی موج کی دیوانگی میں اضطراب

چاندنی بن بن کے بہتا ہے لہو مہتاب کا
مجلسِ شب کی سلگتی تیرگی میں اضطراب

وقت کے بوڑھے سمندر میں حوادث کے بھنور
منتقل کرتے رہے آسودگی میں اضطراب

مصلحت کا جبر سہ کر اور بھی بڑھنے لگا
سسکیاں لیتی ہوئی بیچارگی میں اضطراب

خواہش وابستگی کے رنگ پھر بھرنے لگے
ایک ٹوٹے ربط کی آزردگی میں اضطراب

لمحہ لمحہ جو بھی گزرا غفلتوں کے سائے میں
گھولتا ہی جا رہا ہے بندگی میں اضطراب

پھر فزوں تر کر رہی ہے ہر نئی شام الم
مندمل ہو تی ہوئی افسردگی میں اضطراب

مطمئن کیا ہو سکے گا بے سکونی کا فتور
نور بڑھتا جا رہاہے زندگی میں اضطراب

نور شمع نور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم