MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بچھڑ کر مجھ سے کوئی جا رہا ہے

غزل

بچھڑ کر مجھ سے کوئی جا رہا ہے
کلیجہ منہ کو جیسے آ رہا ہے

لبوں پر ہے تبسم وقت رخصت
مگر دل ہے کہ امڑا آ رہا ہے

وہ آنچل صبر کے دامن کے مانند
مرے ہاتھوں سے چھوٹا جا رہا ہے

خفا تھے ہی جدا بھی ہو رہے ہیں
فلک یہ کیا قیامت ڈھا رہا ہے

جدا یوں ہو رہے ہیں مجھ سے جیسے
مقدر میرا بگڑا جا رہا ہے

جلیلؔ اب اس سے بڑھ کر داد کیا ہو
غزل تیری کوئی خود گا رہا ہے

جلیل قدوائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم