MOJ E SUKHAN

تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہے

غزل

تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہے
مجھے منزلوں سے گریز ہے میرا راستہ کوئی اور ہے

میری چاہتوں کو نہ پوچھئے جو ملا طلب سے سوا ملا
مری داستاں ہی عجیب ہے مرا مسئلہ کوئی اور ہے

یہ ہوس کے بندے ہیں ناصحا نہ سمجھ سکے مرا مدعا
مجھے پیار ہے کسی اور سے مرا دل ربا کوئی اور ہے

مرا ذوق سجدہ ہے ظاہری کہ ہے کشمکش مری زندگی
یہ گمان دل میں رہا سدا مرا مدعا کوئی اور ہے

وہ رحیم ہے وہ کریم ہے وہ نہیں کہ ظلم کرے سدا
ہے یقیں زمانے کو دیکھ کر کہ یہاں خدا کوئی اور ہے

میں چلا کہاں سے خبر نہیں کہ سفر میں ہے مری زندگی
مری ابتدا کہیں اور ہے مری انتہا کوئی اور ہے

مرا نام درشنؔ خستہ تن مرے دل میں کوئی ہے ضو فگن
میں ہوں گم کسی کی تلاش میں مجھے ڈھونڈھتا کوئی اور ہے

درشن سنگھ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم