MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیں

غزل

جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیں
قرض ہے پچھلے جنم کا سو ادا کرتے ہیں

کیا ہوا جام اٹھاتے ہی بھر آئیں آنکھیں
ایسے طوفان تو ہر شام اٹھا کرتے ہیں

دل کے زخموں پہ نہ جاؤ کہ بڑی مدت سے
یہ دیے یوں ہی سر شام جلا کرتے ہیں

کون ہے جس کا مقدر نہ بنی تنہائی
کیا ہوا ہم بھی اگر تجھ سے گلا کرتے ہیں

رشتۂ درد کی میراث ملی ہے ہم کو
ہم ترے نام پہ جینے کی خطا کرتے ہیں

کیلاش ماہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم