MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب نظر کے سامنے روضہ کا منظر آئے گا

جب نظر کے سامنے روضہ کا منظر آئے گا
خود بخود میری زبان پر ذکر سرور آئے گا

دیکھنا ہے سایۂ احمد تو دیکھو عرش پر
آسماں کا سایہ آخر کیوں زمیں پر آئے گا

مجھ کو نسبت ہے محمد سے ، نہیں دنیا کا خوف
مجھ سے ٹکرائی تو گردش کو بھی چکر آئے گا

تیرگی کو کاٹ دے گی جنبشِ نوکِ قلم
روشنی کے ہاتھ میں کرنوں کا خنجر آئے گا

جو محمد کے نہیں نظریں جھکا کر جائیں گے
مدحِ خوانِ مصطفیٰ تو سر اٹھا کر آئے گا

آنکھ میں بھر لوں گا میں تو شربتِ دیدار کو
جام بھرنے جب مرا ساقیِ کوثر آئے گا

جس کے دل میں آئے گا عارفؔ ، محمد کا خیال
بخت کی تاریکیوں میں مثلِ خاور آئے گا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم