MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جس کو بتلایا کہ یہ گھر ہے یہ آنگن ہے مرا

غزل

جس کو بتلایا کہ یہ گھر ہے یہ آنگن ہے مرا
مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ وہ دشمن ہے مرا

مری کٹیا ہی تجھے شہر میں اچھی نہ لگی
میں بڑے ناز سے کہتا تھا کہ ساون ہے مرا

مجھ کو خیرات نہ دے پر مرا کشکول نہ توڑ
آخری فرد ہوں میں آخری برتن ہے مرا

آج لوٹا دو بڑھاپے نے اسے دیکھنا ہے
تیری دیوار پہ رکھا ہوا بچپن ہے مرا

چند تنکے جو سر شاخ شجر لپٹے ہیں
تجھ کو معلوم ہے اے برق نشیمن ہے مرا

ایک لمحہ بھی ضرورت نے سنبھلنے نہ دیا
کس کے دروازے پہ پھیلا ہوا دامن ہے مرا

کم سنی قصر کے بچوں میں کہیں بھول آیا
یہ کسی اور کا کھیلا ہوا بچپن ہے مرا

نصیر بلوچ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم