MOJ E SUKHAN

جو دیکھو تو عیاں کچھ بھی نہیں ہے

جو دیکھو تو عیاں کچھ بھی نہیں ہے
جو سوچو تو نہاں کچھ بھی نہیں ہے

وہ رہتا ہے کہیں اس سے بھی آگے
یہ نیلا آسماں کچھ بھی نہیں ہے

فقط دو چار دن کی ہے یہ دنیا
ارے چھوڑو یہاں کچھ بھی نہیں ہے

کہاں دارا کہاں ہے اب سکندر
بچا کس کا نشاں کچھ بھی نہیں ہے

نہ طالب ہے نہ ہے مطلوب کوئی
زماں اور یہ مکاں کچھ بھی نہیں ہے

سبھی جذبوں کی قیمت لگ چکی ہے
محبت کا بیاں کچھ بھی نہیں ہے

نیلما ناہید درانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم