MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں

غزل

حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں
پناہ مانگنے آیا ہوں بے پناہوں میں

بدن ممی تھا نظر برف سانس کافوری
تمام رات گزاری ہے سرد بانہوں میں

اب ان میں شعلے جہنم کے رقص کرتے ہیں
بسے تھے کتنے ہی فردوس جن نگاہوں میں

بجھی جو رات تو اپنی گلی کی یاد آئی
الجھ گیا تھا میں رنگین شاہراہوں میں

نہ جانے کیا ہوا اپنا بھی اب نہیں ہے وہ
جو ایک عمر تھا دنیا کے خیر خواہوں میں

مری تلاش کو جس علم سے قرار آئے
نہ خانقاہوں میں پائی نہ درس گاہوں میں

بدنام نظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم