MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خاطر کسی کے روز سنورنے کے باوجود

Khatir kissi Kay rooz sanwarny Kay Bawajood

غزل

خاطر کسی کے روز سنورنے کے باوجود
میرا رہا وہ مجھ سے بچھڑنے کے باوجود

کیسی عجیب چیز ہے الفت کے آدمی
آتا ہے یاد دل سے اترنے کے باوجود

دیکھو یہی تو وصف لہو کا ہے دوستو
رہتے ہیں بھائی ساتھ میں لڑنے کے باوجود

کردار مارنا تو نہیں بس میں موت کے
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود

افسوس اپنے ذہن میں وسعت نہ آ سکی
درسی کتابیں سینکڑوں پڑھنے کے باوجود

کیوں چہرہ مسکرانے کا عادی نہیں رہا
لمحے اذیتوں کے گزرنے کے باوجود

(شاہ فہد)

Shah Fahad

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم