MOJ E SUKHAN

خرچ جب ہو گئی جذبوں کی رقم آپ ہی آپ

خرچ جب ہو گئی جذبوں کی رقم آپ ہی آپ
کھل گیا ہم پہ حسینوں کا بھرم آپ ہی آپ

اب کے روٹھے تو منانے نہیں آیا کوئی
بات بڑھ جائے تو ہو جاتی ہے کم آپ ہی آپ

روز بڑھتا تھا کوئی دست طلب اپنی طرف
سر سے ہوتا ہوگا اک بوجھ بھی کم آپ ہی آپ

ان کے وعدوں پہ کوئی دن تو گزارہ کیجے
آپ بن جائیں گے تصویر الم آپ ہی آپ

جیسے بجھتا ہے کوئی پھول شرارہ بن کر
حسن کی آنچ بھی ہو جائے گی کم آپ ہی آپ

آبگینوں کی طرح ٹوٹ گیا ٹوٹ گیا
خواب یوسف میں زلیخا کا بھرم آپ ہی آپ

شاخ تنہائی سے پھل توڑیں گے چپکے چپکے
عشق کے یہ بھی مزے لوٹیں گے ہم آپ ہی آپ

دیر تک چھائی رہی ایک اداسی دل پر
جانے کیا سوچ کے پھر ہنس دیے ہم آپ ہی آپ

میں کہاں آیا ہوں لائے ہیں تری محفل میں
مری وحشت مرے مجبور قدم آپ ہی آپ

ف س اعجاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم