MOJ E SUKHAN

رہ گیا خواب دل آرام ادھورا کس کا

غزل

رہ گیا خواب دل آرام ادھورا کس کا
ڈھل گئی شب تو کھلا ہے یہ دریچہ کس کا

لمحہ لمحہ مجھے ویران کئے دیتا ہے
بس گیا میرے تصور میں یہ چہرہ کس کا

آزمائش کی گھڑی ہے سر مقتل دیکھیں
زیر خنجر وہی رہتا ہے ارادہ کس کا

یہ جو بیدار بھی ہیں سوئے ہوئے بھی ان میں
شام کس کی ہے خدا جانے سویرا کس کا

رہ رو آخر شب ہیں سبھی اکتائے ہوئے
کون کب تک ہے یہاں ساتھ بھروسہ کس کا

میرے قاتل کے تجسس میں بھٹکنے والو
خون آلود ہے بستی میں پسینہ کس کا

آئینہ خانہ دو عالم کو بنا کر اے دلؔ
منتظر بیٹھا ہے وارفتہ و شیدا کس کا

دل ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم