MOJ E SUKHAN

زخم جب گفتگو نہیں کرتا

غزل

زخم جب گفتگو نہیں کرتا
چارہ گر بھی رفو نہیں کرتا

شہر الفت کا وہ منافق ہے
بات جو روبرو نہیں کرتا

بات بے بات مسکراتا ہوں
غم کو میں سرخ رو نہیں کرتا

ہوک اندر سے اٹھ رہی ہے میاں
میں دکھانے کو ہو نہیں کرتا

ضبط کی آخری نشانی ہے
میں اگر ہاؤ ہو نہیں کرتا

ٹھیک ہے دیکھ بھال کرتا ہے
زخم لیکن رفو نہیں کرتا

اپنے تائیں وہ خوب لکھتا ہے
لفظ کی آبرو نہیں کرتا

اے مرے پارسا بتا مجھ کو
میں جو کرتا ہوں تو نہیں کرتا

جو اداسی کا پیڑ ہے شاہدؔ
سبز رت میں نمو نہیں کرتا

افتخار شاہد ابو سعد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم