MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شام بے مہر میں اک یاد کا جگنو چمکا

غزل

شام بے مہر میں اک یاد کا جگنو چمکا
اور پھر ایک ہی چہرہ تھا کہ ہر سو چمکا

اے چراغ نگۂ یار میں جاں سے گزرا
اب مجھے کیا جو پئے دل زدگاں تو چمکا

روز ملتے تھے تو بے رنگ تھا تیرا ملنا
دور رہنے سے ترے قرب کا جادو چمکا

دل میں پھر بجھنے لگا ضبط کا تارا کوئی
پھر مری نوک مژہ پر کوئی آنسو چمکا

تاج خسرو کی چمک ماند پڑی جاتی ہے
شہر کے کوچہ و بازار میں لوہو چمکا

کھو گیا ہے انہی تاریک خلاؤں میں کہیں
وہ بھی کیا چاند تھا جس سے مرا پہلو چمکا

میں نے جانا کہ فراستؔ کوئی غم خوار آیا
عکس مہتاب کچھ اس طرح لب جو چمکا

سید فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم