غزل
شگفتہ یادوں کا موسم بڑا سہانا لگے
تمہیں بنا لوں میں اپنا اگر برا نہ لگے
وہ دے نہ پائے گا میری محبتوں کا جواب
اسے تو میرا ہر اک لفظ تازیانہ لگے
دعا یہی ہے مجھے بھول جاؤ تم ورنہ
تمہیں بھلانے میں مجھ کو بہت زمانہ لگے
قبا گلوں کی بہاروں میں چاک چاک ہے کیوں
ہوائے صحن چمن مجھ کو باغیانہ لگے
جلاؤں گا میں ہواؤں کی زد پہ اب بھی دیے
یہ عزم چاہے زمانے کو خود سرانہ لگے
سنا چکے سبھی روداد غم انہیں بسملؔ
اب ایسا گیت سناؤ جو دلبرانہ لگے
بسمل اعظمی