MOJ E SUKHAN

قلم کو خون میں غرقاب دیکھتے جاؤ

غزل

قلم کو خون میں غرقاب دیکھتے جاؤ
زمین شعر کو شاداب دیکھتے جاؤ

نگاہ ہوتے ہوئے سیل خوں پہ چپ رہنا
ہمارے شہر کے آداب دیکھتے جاؤ

پہنچ گئی ہے سر عرش ان کی خاموشی
کہ کشتگاں کو ظفر یاب دیکھتے جاؤ

سجائے ماتھے پہ اپنی تمام تعبیریں
ہماری آنکھ کے سب خواب دیکھتے جاؤ

سلگ رہا ہے کوئی اور جل رہا ہے کوئی
گھروں کی یہ بھی تب و تاب دیکھتے جاؤ

ہر ایک قبر پہ لکھا ہوا ہے نام یہاں
ہمارے منبر و محراب دیکھتے جاؤ

غرض کے سینکڑوں بازار کھل گئے لیکن
خلوص ہو گیا نایاب دیکھتے جاؤ

عابدہ کرامت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم