MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لمحہ لمحہ بیت چکا ہے اب جو تم پچھتاؤ تو کیا

غزل

لمحہ لمحہ بیت چکا ہے اب جو تم پچھتاؤ تو کیا
بھولی بسری یادیں سب کے آگے بھی دہراؤ تو کیا

کون پرایا درد سمیٹے کون کسی کا یار بنے
اپنا زخم ہے اپنا پیارے لوگوں کو دکھلاؤ تو کیا

پہلے تو تم آگ لگا کر سب کچھ جلتا چھوڑ گئے
دیواریں تاریک ہوئی ہیں اب اس گھر میں آؤ تو کیا

اس کا چہرہ اس کی آنکھیں اس کے لب وہ بات کہاں
رنگ برنگی اخباروں کی تصویریں دکھلاؤ تو کیا

میں اک ایسا پیڑ ہوں جس پر بیٹھ کے سب اڑ جاتے ہیں
تم بھی میری شاخ پہ آ کر بیٹھو اور اڑ جاؤ تو کیا

سوچ کی دھوپ تو کیا کم ہوگی سوچ کی کرنیں عام ہوئیں
رات کے سائے میرے سر کے سورج پر پھیلاؤ تو کیا

توڑ کے پیروں کی زنجیریں میدانوں کا عزم کرو
اپنے گریبانوں کے پرچم کمروں میں لہراؤ تو کیا

اپنے بدن کو صورت ایسی نذر صلیب ظلم کرو
سونے کی معصوم صلیبیں سینوں پر لٹکاؤ تو کیا

کیا کیا شعر کئے ہیں تم نے نقش غزل کی صورت میں
ہم تم کو نقاشؔ کہیں گے تم شاعر کہلاؤ تو کیا

نقاش کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم