MOJ E SUKHAN

نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں
تمہارا ہجر مناتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

یہ کیسی مٹی سے آخر مجھے بنایا گیا
کسی سے ہاتھ ملاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

کبھی تو لگتا ہے جیسے میں ایک پتھر ہوں
پھر اتنا شور مچاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

انا پرست ہوں اتنا کہ اپنے ہاتھ کے بھی
ہتھیلی سامنے لاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

نجانے کون سی منزل کا میں مسافر ہوں
کسی بھی راہ سے جاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

میں اس کی آنکھ میں رہتا ہوں خواب کی صورت
طلوع, صبح تک آتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

کسی طرح سے میں خود کو بنا تو لیتا ہوں
پھر ایک عکس بناتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

شاہ دل شمس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم