MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وجود پر انحصار میں نے نہیں کیا تھا

وجود پر انحصار میں نے نہیں کیا تھا
کہ خاک کا اعتبار میں نے نہیں کیا تھا

سفید ریشم کی اوڑھنی میرے ہاتھ میں تھی
مگر اسے داغ دار میں نے نہیں کیا تھا

یہ بے نیازی کی خو مرے حسن میں بہت تھی
مگر اسے بے قرار میں نے نہیں کیا تھا

کہیں سے یک لخت زندگی میری کاٹ دے گا
جو راستہ اختیار میں نے نہیں کیا تھا

سموں تلے روند دے خوشی سے مگر یہ سن لے
گناہ اے شہسوار میں نے نہیں کیا تھا

دکھائی دینے لگا وہ اک تیسرا کنارہ
ابھی جوانی کو پار میں نے نہیں کیا تھا

غروب کا وقت تھا مقرر سو چل پڑا میں
کسی کا پھر انتظار میں نے نہیں کیا تھا

محمد اظہار الحق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم