MOJ E SUKHAN

وہ کہ ہر عہد محبت سے مکرتا جائے

وہ کہ ہر عہد محبت سے مکرتا جائے
دل وہ ظالم کہ اسی شخص پہ مرتا جائے

میرے پہلو میں وہ آیا بھی تو خوشبو کی طرح
میں اسے جتنا سمیٹوں وہ بکھرتا جائے

کھلتے جائیں جو ترے بند قبا زلف کے ساتھ
رنگ پیراہن شب اور نکھرتا جائے

عشق کی نرم نگاہی سے حنا ہوں رخسار
حسن وہ حسن جو دیکھے سے نکھرتا جائے

کیوں نہ ہم اس کو دل و جان سے چاہیں تشنہؔ
وہ جو اک دشمن جاں پیار بھی کرتا جائے

عالم تاب تشنہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم