MOJ E SUKHAN

پھر سے اسی فریب میں آ ئے ھوئے ہیں ہم

پھر سے اسی فریب میں آ ئے ھوئے ہیں ہم
ایمان جس پہ پہلے بھی لا ئے ھوئے ہیں ہم

رنگیں تخیلات میں گزری ہے زندگی
کم بخت شاعروں کے ستا ئے ھوئے ہیں ہم

جس کی خدا کے ساتھ بھی دو پل نہیں بنی
اس بد مزاج شخص کو بھائے ھوئے ہیں ہم

امید پھل کی نہ کوئی امکان سا ئے کا
احساں مگر شجر کا اٹھائے ھوئے ہیں ہم

لازم نہیں کہ اس پہ دیا بھی جلائیں گے
مدت سے جس مزار پہ آئے ھوئے ہیں ہم

اے دوست تیرا ساتھ بھی ایسے ہے جس طرح
اک من پسند خواب میں آئے ھوئے ہیں ہم

فوزیہ شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم