MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چاہت کی رہگذر میں تجارت نہیں کرو​

چاہت کی رہگذر میں تجارت نہیں کرو​
ایسا ہی شوق ہے تو محبت نہیں کرو​

​جب دل سے ہر قصُور کو تسلیم کر لیا​
لفظوں میں بار بار وضاحت نہیں کرو​

​سانسیں مری نہ قید کرو سُود کے عوض​
مجھ سے وُصول جینے کی قیمت نہیں کرو​

​نقشہ مرے بزرگوں نے اِس کا بنایا تھا​
تقسیم بام و در کی یہ جنّت نہیں کرو​

​اِک آخری پناہ تو رہنے دو میرے پاس​
مجھ سے جُدا یہ گھر، یہ مری چھت نہیں کرو​

​تم زرخرید مُنصف و عادل ہو، اِس لیے​
میرے معاملے کی سماعت نہیں کرو​

​اعتبار ساجد​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم