MOJ E SUKHAN

کب تک نباہیں ایسے غلط آدمی سے ہم

غزل

کب تک نباہیں ایسے غلط آدمی سے ہم
دنیا ہے مظہریؔ سے خفا مظہریؔ سے ہم

بھاگے ضرور عرصۂ تنگ خودی سے ہم
نکلے مگر نہ دائرۂ آگہی سے ہم

اس زندگی نے آپ سے رکھا ہے مجھ کو دور
کس طرح انتقام نہ لیں زندگی سے ہم

ہر جامہ صفات میں کیوں کر نہ جھول ہو
ہے یہ کہ ناپتے ہیں خدا کو خودی سے ہم

تلتے ہیں جس ترازو میں سیم و زر و گہر
کیا ظلم ہے دلوں کو بھی تولیں اسی سے ہم

سیرابیاں جمیلؔ کو اتنا نہ دے سکیں
جتنا کہ فیضیاب ہوئے تشنگی سے ہم

جمیل مظہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم