MOJ E SUKHAN

کس قدر اختصار سے بولا

کس قدر اختصار سے بولا
جب بھی بولا وہ پیار سے بولا

اس کی آنکھوں سے مے چھلکتی تھی
وہ بہک کر خمار سے بولا

اس کا انداز دلبرانہ تھا
تب ہی تو انکسار سے بولا

کچھ تو مجبوریاں رہی ہونگیں
ڈر کے جو انتشار سے بولا

کون سمجھے گا اس کو میرے سوا
اس نے اشکوں کی دھار سے بولا

وقتِ رخصت وہ کہہ گیا خاور
تو نے کچھ بھی نہ یار سے بولا ؟

خاور کمال صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم