MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کس نے کہا کہ ان کے اجا لوں میں دم نہیں

کس نے کہا کہ ان کے اجا لوں میں دم نہیں
میرے چراغ چاند ستاروں سے کم نہیں

رک رک کے سانس لیتا ھے رستے میں بار بار
وہ میرا ہم سفر ھے مگر ہم قدم نہیں

آنکھوں میں اب ہماری وہ نیلا ہٹیں کہاں
دل میں ہمارے اب تری یادوں کا سم نہیں

پوچھا نہ حال اس نے مگر دیکھ تو لیا
میں سوچتا ہوں اتنی عنایت بھی کم نہیں

جب تک ترے حضور یہ ہوتی نہیں ھے خم
تب تک جبینِ شوق مری محترم نہیں

میں مانتا ہوں ٹھیک ھے سب کچھ ھے اس کے پاس
لیکن مجھے خرید لے ، اتنی رقم نہیں

وحشت ہو جس کو راس وہ آکر رہے یہاں
گھر میں ہمارے دشت ھے باغِ ارم نہیں

اٹھنے لگی ہیں میری بھی نظریں ادھر ادھر
جانِ سہیل اب تری زلفوں میں خم نہیں

سہیل اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم