MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی کو نظموں میں گھول جانا کسی کو دل کا قرار لکھنا

کسی کو نظموں میں گھول جانا کسی کو دل کا قرار لکھنا
عجیب رشتے ہیں چاہتوں کے رفاقتوں کے ملال لکھنا

عجیب موسم ہے آشنائی مقدروں کے حساب لکھنا
کبھی خودی بے مہار ہونا کبھی تو خود کو نہال لکھنا

ہمارے جیسے ہی ہر بشر کو ہزار شکوے ہیں زندگی سے
کبھی تو دکھ کا زوال لکھنا کبھی خوشی کو خیال لکھنا

وہ جن کے ہونے سے زندگی میں عجیب چاہت پگھل رہی ہے
انہیں کبھی تو غزال لکھنا انہی کو ماہِ جمال لکھنا

اجارہ داری ہے دل پہ اس کی نگاہ نے دل کو زبان دی ہے
کبھی تو شوقِ وصال لکھنا اور اس کو مثلِ ہلال لکھنا

مجھے مٹا کے بناؤ پھر سے یا مجھ میں دل کو رکھو دوبارہ
کبھی نہ میرا زوال لکھنا مجھے تو اسمِ رجال لکھنا

وجودِ وحشت ہے خود نمائی کمال پیشی ہے خود رسائی
کبھی تو رنجِ وبال لکھنا کبھی تو لطفِ وصال لکھنا

ہم اپنے ہونے پہ خوش تو یوں ہیں کہ آدمی ہیں سوال کیسا
حکایتوں کی تمام لہروں میں اپنی کشتی کمال لکھنا

ارم ایوب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم