MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کھلتی ہے چاندنی جہاں وہ کوئی بام اور ہے

غزل

کھلتی ہے چاندنی جہاں وہ کوئی بام اور ہے
دل کو جہاں سکوں ملے وہ تو مقام اور ہے

کہتی ہے روح جسم سے شاید تجھے خبر نہیں
میرا مقام تو نہیں میرا مقام اور ہے

سہمی ہوئی یہ خامشی ہونٹوں کی تیرے کپکپی
کہتی ہے صاف نامہ بر کچھ تو پیام اور ہے

شکوۂ بے رخی پہ وہ کہنے لگے کہ دیکھیے
نظروں کی بات اور ہے دل کا سلام اور ہے

پیتے رہے ہیں عمر بھر لیکن وہی ہے تشنگی
جس کا نشہ ہے جاوداں وہ کوئی جام اور ہے

وقت گناہ دیر تک کہتا ہے مجھ سے دل مرا
کار حیات عشق میں تیرا تو کام اور ہے

ہر شے پہ اس جہان کی پردا ہے اک فریب کا
کہتے ہیں سب کنولؔ مجھے گو میرا نام اور ہے

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم