MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کھیل میں کچھ تو گڑبڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ

کھیل میں کچھ تو گڑبڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ
آدھے لوگ نری مٹی تھے آدھے چاند ستارے لوگ

اس ترتیب میں کوئی جانی بوجھی بے ترتیبی تھی
آدھے ایک کنارے پر تھے آدھے ایک کنارے لوگ

اس کے نظم و ضبط سے باہر ہونا کیسے ممکن تھا
آدھے اس نے ساتھ ملائے آدھے اس نے مارے لوگ

آج ہماری ہار سمجھ میں آنے والی بات نہیں
اس کے پورے لشکر میں تھے آدھے آج ہمارے لوگ

کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

ان پر خواب ہوا اور پانی کی تبدیلی لازم ہے
آدھے پھیکے بے رس ہو گئے آدھے زہر تمہارے لوگ

آدھی رات ہوئی تو غم نے چپکے سے در کھول دئے
آدھوں نے تو آنکھ نہ کھولی آدھے آج گزارے لوگ

آدھوں آدھ کٹی یکجائی پھر دوجوں نے بیچوں بیچ
آدھے پاؤں کے نیچے رکھے آدھے سر سے وارے لوگ

ایسا بند و بست ہمارے حق میں کیسا رہنا تھا
ہلکے ہلکے چن کر اس نے آدھے پار اتارے لوگ

کچھ لوگوں پر شیشے کے اس جانب ہونا واجب تھا
دھار پہ چلتے چلتے ہو گئے آدھے آدھے سارے لوگ

حمیدہ شاہین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم