MOJ E SUKHAN

کہو نہ یہ کہ محبت ہے تیرگی سے مجھے

غزل

کہو نہ یہ کہ محبت ہے تیرگی سے مجھے
ڈرا دیا ہے پتنگوں نے روشنی سے مجھے

سفینہ شوق کا اب کے جو ڈوب کر ابھرا
نکال لے گیا دریائے بے خودی سے مجھے

ہے میری آنکھ میں اب تک وہی سفر کا غبار
ملا جو راہ میں صحرائے آگہی سے مجھے

خرد انہی سے بناتی ہے رہبری کا مزاج
یہ تجربے جو میسر ہیں گمرہی سے مجھے

ابھی تو پاؤں سے کانٹے نکالتا ہوں میں
ابھی نکال نہ گلزار زندگی سے مجھے

زبان حال سے کہتا ہے ناز عشوہ گری
حیا چھپا نہ سکی چشم مظہری سے مجھے

برائے داد سخن کاسۂ سوال ہو دل
خدا بچائے جمیلؔ اس گداگری سے مجھے

جمیل مظہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم