MOJ E SUKHAN

کہیں سنگ میں بھی ہے روشنی کہیں آگ میں بھی دُھواں نہیں

کہیں سنگ میں بھی ہے روشنی کہیں آگ میں بھی دُھواں نہیں
یہ عجیب شہرِ طلسم ہے کہیں آدمی کا نشاں نہیں

نہ ہی اِس زمیں کے نشیب میں نہ ہی آسماں کے فراز پر
کٹی عمر اُس کو تلاشتے ، جو کہیں نہیں پر کہاں نہیں

یہ جو زندگانی کا کھیل ہے، غم و انبساط کا میل ہے
اُسے قدر کیا ہو بہار کی کبھی دیکھی جس نے خزاں نہیں

وہ جوکٹ گرےپر نہ جُھک سکےجونہ مقتلوں سےبھی رُک سکے
کوئی ایسا سر نہیں دوش پر، کسی منہ میں ایسی زباں نہیں

جو تھے اشک میں نے وہ پی لیے، لبِ خشک و سوختہ سِی لیے
مرے زخم پھر بھی عیاں رہے، مرا درد پھر بھی نہاں نہیں

نہیں اس کو عشق سے واسطہ وہ ہے اور ہی کوئی راستہ
اگر اِس میں دِل کا لہو نہیں اگر اِس میں جاں کا زیاں نہیں​

امجد اسلام امجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم