MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا ایک نظر کی زحمت بھی اے جان جہاں منظور نہیں

غزل

کیا ایک نظر کی زحمت بھی اے جان جہاں منظور نہیں
میں چاہے کسی قابل نہ سہی تیرے تو کرم سے دور نہیں

ہر چند فقط مختار نہیں ہر چند فقط مجبور نہیں
اک آہ تو بھر لوں اپنی خوشی اتنا بھی مجھے مقدور نہیں

ہاں حق تو ادا کر لیتا ہوں اے دوست ترے ہر جلوے کا
لیکن میں دیکھوں تیرے سوا توہین نظر منظور نہیں

ہے جتنا تقرب ان سے جسے اتنا ہی کسا جاتا ہے اسے
آئین محبت سب سے نئے پھر کوئی نیا دستور نہیں

یہ داغ محبت ہے جب تک تاریک نہیں ماحول مرا
ہر شب ہے شب مہ میرے لئے کوئی بھی شب دیجور نہیں

احوال دروں کی انساں کے غماز نگاہیں ہوتی ہیں
آنکھوں میں نظر مستور سہی آنکھوں سے نظر مستور نہیں

وہ راہ نورد شوق ہوں میں مشتاق ہیں راہیں خود میری
جب ہاتھ میں دامن ہے ان کا پھر کوئی بھی منزل دور نہیں

دل جس کا نہ ہو اندھا اس کی آنکھیں ہوں اگر بے نور تو کیا
ہاں اس پہ مگر کچھ غور کرو دل ہی تو کہیں بے نور نہیں

جو چاہیں کہیں یہ دیوانے آئین وفا سے بیگانے
مشرک ہوں اگر قدموں پہ ترے سجدوں کے لئے مامور نہیں

جب میں ہی نہ ہوں ہوتا ہے کوئی پاتا ہے جہاں کھوتا ہے کوئی
کیا اس میں مقام حیرت ہے یا جلوہ نہیں یا طور نہیں

بے وجہ نہیں یہ اشک رواں ملتی ہیں محبت کی کڑیاں
تم پاس بھی ہو کر پاس نہیں ہم دور بھی رہ کر دور نہیں

ہر گھاؤ ہے کاملؔ مژدۂ نو ہر داغ حیات غم کی نوید
جینے کا مزہ کیا خاک ملے زخموں سے اگر دل چور نہیں

کامل شطاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم