MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیوں جدائی ہوئی کیوں بڑھے فاصلے تم سے کیسے کہیں

کیوں جدائی ہوئی کیوں بڑھے فاصلے تم سے کیسے کہیں
ہم نے تبدیل کیوں کر لیے راستے تم سے کیسے کہیں

ہم جو بچھڑے سبب اس کا ہم تم نہ تھے صرف تقدیر تھی
اور تقدیر سے کوئی کیسے لڑے تم سے کیسے کہیں

کام آئی نہ کچھ اپنی دیوانگی عمر کیسے کٹی
بجھ گئے کیوں امیدوں کے سارے دیے تم سے کیسے کہیں

کچھ زمانے نے بھی عشق کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیں
مسئلے کچھ ہمارے بھی حائل رہے تم سے کیسے کہیں

لوگ چہرے پہ چہرہ سجا کر ملے ہم نہ سمجھے مگر
آستینوں میں تھے سانپ پالے ہوئے تم سے کیسے کہیں

اک وہی بات جو تم سے کہنی تھی وہ ان کہی رہ گئی
بس ہر اِک موڑ پر ہم یہ سوچا کیے تم سے کیسے کہیں

حمیرا راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم