MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گرتی ہے تو گر جائے یہ دیوار سکوں بھی

گرتی ہے تو گر جائے یہ دیوار سکوں بھی
جینے کے لیے چاہیئے تھوڑا سا جنوں بھی

یہ کیسی انا ہے مرے اندر کہ مسلسل
دیکھوں اسے لیکن نظر انداز کروں بھی

کھل کر تو وہ مجھ سے کبھی ملتا ہی نہیں ہے
اور اس سے بچھڑ جانے کا امکان ہے یوں بھی

ایسی بھی کوئی خاص تعلق کی فضا ہو
محفل میں جب اس کی نہ رہوں اور رہوں بھی

وہ راز جو بس اس کی نگاہوں نے پڑھا ہے
جی چاہتا ہے میں اسے ہونٹوں سے کہوں بھی

اس وقت کہیں جا کے غزل ہوگی مکمل
آنکھوں سے ٹپک جائے جو اک قطرۂ خوں بھی

اشفاق حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم