MOJ E SUKHAN

یہ ردائے خوف اتار دے تو محبتوں کا نقاب دوں

یہ ردائے خوف اتار دے تو محبتوں کا نقاب دوں
تُو قدم قدم مِرے ساتھ چل، میں نظر نظر کا جواب دوں

تجھے شک ہے میرے خیال پر کہ بھٹک رہا ہے اِدھر اُدھر
تو کبھی اتر مِرے دل میں تُو تجھے دھڑکنوں کا حساب دوں

بڑے بد نصیب سے لوگ ہیں تری قدر جو نہیں کر سکے
میں صراطِ عشق پہ جانِ من تجھے چاہتوں کے گلاب دوں

یہی دوستی کی اپیل ہے، یہی مخلصی کی دلیل ہے
ترے سب گناہ سمیٹ لوں تجھے اپنے سارے ثواب دوں

تری آنکھ مصرعۂ میرؔ ہے ، ترا دل غزل ہے فرازؔ کی
مِرا جی کہے تجھے تحفتاً کوئی شاعری کی کتاب دوں

شہباز نیّر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم