MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ لگتا ہے کہ یک طرفہ محبت مار ڈالے گی

یہ لگتا ہے کہ یک طرفہ محبت مار ڈالے گی
مجھے اندھے سفر کی یہ مسافت مار ڈالے گی

برائے زندگی خود کو سفر سے باندھ رکھا ہے
میں دم لوں گا تو مجھ کو گھر کی راحت مار ڈالے گی

میں خود کو اس لیے بھی خود پہ وا ہونے نہیں دیتا
کھلے گی مجھ پہ جب میری حقیقت مار ڈالے گی

ہوائیں منتشر کرتی رہیں گی بال و پر یونہی
فضا میں دور تک اڑنے کی عادت مار ڈالے گی

کوئی حل جانِ جاں اس ابتدائے ہجر کا ورنہ
تجھے تیری انا مجھ کو مروت مار ڈالے گی

میں تجھ کو بھول جاؤں یہ مرے بس میں تو ہے لیکن
مجھے ڈر ہے مجھے اندھی عقیدت مار ڈالے گی

خلیل اپنے قبیلے کی روایت توڑنا چاہے
اسے ڈر ہے اسے کہنہ روایت مار ڈالے گی

مشتاق خلیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم