یہ لگتا ہے کہ یک طرفہ محبت مار ڈالے گی
مجھے اندھے سفر کی یہ مسافت مار ڈالے گی
برائے زندگی خود کو سفر سے باندھ رکھا ہے
میں دم لوں گا تو مجھ کو گھر کی راحت مار ڈالے گی
میں خود کو اس لیے بھی خود پہ وا ہونے نہیں دیتا
کھلے گی مجھ پہ جب میری حقیقت مار ڈالے گی
ہوائیں منتشر کرتی رہیں گی بال و پر یونہی
فضا میں دور تک اڑنے کی عادت مار ڈالے گی
کوئی حل جانِ جاں اس ابتدائے ہجر کا ورنہ
تجھے تیری انا مجھ کو مروت مار ڈالے گی
میں تجھ کو بھول جاؤں یہ مرے بس میں تو ہے لیکن
مجھے ڈر ہے مجھے اندھی عقیدت مار ڈالے گی
خلیل اپنے قبیلے کی روایت توڑنا چاہے
اسے ڈر ہے اسے کہنہ روایت مار ڈالے گی
مشتاق خلیل