MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اگر خود اپنے مراتب سے آشنا ہو جائے

اگر خود اپنے مراتب سے آشنا ہو جائے
ذرا سی دیر میں انسان کیا سے کیا ہو جائے

نہ جانے کتنے دلوں سے امنڈ پڑے آنسو
خدا کرے یہ مرا ساز بے صدا ہو جائے

کسی کتاب کسی رہنما کی حاجت کیا
ہر ایک نقص اگر شعر میں روا ہو جائے

عجیب رسم زمانہ ہے اس کو کیا کہئے
جو دوسروں کو ملائے وہی برا ہو جائے

دل و نگاہ مکدر ہوں جن کے چہرے سے
ہمارا ان کا کہیں پھر نہ سامنا ہو جائے

ہمارے گھر کی جو دشمن بنی ہوئی ہے ابھی
چلے ہوا تو پریشاں یہی گھٹا ہو جائے

یقین لطف و کرم آپ اگر دلائیں اسے
نصیرؔ حلقۂ‌‌ اوہام سے رہا ہو جائے

نصیر کوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم