MOJ E SUKHAN

خوب انداز پذیرائی ہے

غزل

خوب انداز پذیرائی ہے
عزت نفس پہ بن آئی ہے

غم دوراں غم جاناں غم جاں
میری ان سب سے شناسائی ہے

ہاتھ پھیلایا ہے اپنے آگے
یہ گدائی ہے کہ دارائی ہے

دل کے آئینے میں یہ تو ہے کہ میں
ایک صورت سی نظر آئی ہے

تجربہ یہ ہے کہ ہر زلف خرد
دست وحشت ہی نے سلجھائی ہے

دل کو افلاس کا احساس نہیں
کیسی دولت مرے ہاتھ آئی ہے

حسن محسوس جسے کہتے ہیں
میرے احساس کی رعنائی ہے

اے بہار لب و عارض یہ بتا
تو کسی کو کبھی راس آئی ہے

وقت ہے در پئے آزار مگر
لیثؔ کو زعم شکیبائی ہے

لیث قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم