MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خود اپنے نفس سے کچھ ایسے انحراف کریں

غزل

خود اپنے نفس سے کچھ ایسے انحراف کریں
کہ دل نہ مانے جسے اس کو بھی معاف کریں

گزشتہ رنجشوں سے ایسے دل کو صاف کریں
ہر انشقاق بھلا کر ہم ایتلاف کریں

تمہارے وصل کی منت اتارنے کے لیے
تمہارے حلقہءِ قربت میں اعتکاف کریں

سماج ، رِیت، مقدر، گمان اور خدشات
ترے حصول میں کس کس سے اختلاف کریں

طلِسمِ ہوش ربا اپنے شہر میں لائیں
ہم اپنی شملہ پہاڑی کو کوہ قاف کریں

ہم اپنے رنج فقط اپنی ذات تک رکھیں
ہنسی کو اپنے غموں کے لیے غلاف کریں

کہ مل ہی جائے کوئی بھید اپنی قسمت کا
چلو کہ بڑھ کے فلک میں کہیں شگاف کریں

دعا ہے کعبہ کی یوں حاضری مقدر ہو
قدم ملا کے قدم سے ترے ، طواف کریں

مری غزل کو ملی تم سے روشنی ہمدم
کرن کرن کو مرے لفظ انعطاف کریں

عنبرین_خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم