MOJ E SUKHAN
No Record Found
رنگ خوشبو گلاب دے مجھ کواس دعا میں عجب اثر آیا
میں نے پھولوں کی آرزو کی تھیآنکھ میں موتیا اتر آیا!!
اطہر شاہ خان جیدی
اس گرانی میں مرے ساتھ ہیں بارہ بچے
در ہوس پہ شرافت نے گھٹنے ٹیک دیے
نہیں ھے غم جو مری راہ میں اشجار نہیں
ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ
یہ دن کی دھوپ تمہاری نظر کا دھوکا ہے
جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گيا
ہوا میں آئے تو لو بھی نہ ساتھ لی ہم نے
عقدہ کُشائے عالمِ امکاں کہیں جسے
ذکرِ بے داد کہاں کرتے ہیں
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے