MOJ E SUKHAN

پتوں نے شور اتنا مچایا ہوا کے سنگ


پتوں نے شور اتنا مچایا ہوا کے سنگ
بارش میں پیڑ پھر بھی نہایا ہوا کے سنگ

تاروں نے آسماں نہ سجایا تو کیا ہوا
جگنو نے اپنا رقص دکھایا ہوا کے سنگ

کاغذ کی اک پتنگ نے گر کر زمین پر
بچوں کو خوب خوب ہنسایا ہوا کے سنگ

پاؤں میں بیڑیاں مرے سورج نے ڈال دیں
ناچا خوشی سےہے مرا سایا ہوا کے سنگ

شامِ فراق ڈھل گئی خوشبو بکھر گئی
آنچل کسی نے اپنا اُڑایا ہوا کے سنگ

کھڑکی بھر آسمان سے لا حدِ کائنات
شوقِ نظر میں کوئی سمایا ہوا کے سنگ

اک برگِ گل نے شاخ پر جیسے جنم لیا
بوئے وفا نے جشن منایا ہوا کے سنگ

بارش ہے ، چاندنی ہے کہ تتلی ہے شوخ رنگ
دیکھوں میں چھت پہ کوئی ہے آیا ہوا کے سنگ

قیدی نے پھر قفس میں امید باندھ لی
چڑیا نے کوئی گیت سنایا ہوا کے سنگ

ساحل پہ ڈوبتا رہا سورج بنام شب
موجِ بحر کو چین نہ آیا ہوا کے سنگ

سیما چراغ ہیں تو بجھیں گے کسی بھی دم
آندھی میں کون اپنا پرایا ہوا کے سنگ

عشرت معین سیما

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم