MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم وفاؤں سے جفاؤں کا صلہ دیتے رہے

ہم وفاؤں سے جفاؤں کا صلہ دیتے رہے
وہ رقیبوں کو مرے پھر بھی گلہ دیتے رہے

جب نہ پایا کاتب تقدیر کو بھی غم گسار
آرزوؤں کو تھپک کر ہم سلا دیتے رہے

ان کے آنے کی بندھی امید تو ایسا ہوا
راستے میں ہم چراغ دل جلا دیتے رہے

عشق میں بسمل ستم سے اسقدر مایوس تھے
ہر خوشی کا سلسلہ غم سے ملا دیتے رہے
اقبال بسمل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم